سب سے پہلے اسلام لانے والے کون؟

 سب سے پہلے اسلام لانے والے کون؟

صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ سب سے پہلے سیدہ خدیجہؓ ا سلام لائیں اور ان کے بعد مولا علی ؓ نے اسلام قبول کیا اور مذکر میں سب سے پہلے مولا علیؓ نے اسلام قبول کیا۔ 

:صحابہ سے

زید بن ارقم ؓ فرماتے ہیں:۔

أَوَّلُ ‌مَنْ ‌أَسْلَمَ ‌مَعَ ‌رَسُولِ ‌اللَّهِ ‌صَلَّى ‌اللهُ ‌عَلَيْهِ ‌وَسَلَّمَ ‌عَلِيُّ ‌بْنُ ‌أَبِي ‌طَالِبٍ

رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے والے علی بن ابی طالبؓ تھے    

( الأوائل لابن أبي عاصم رقم  70  واسنادہ صحیح)     (مصنف ابن ابی شیبہ رقم  45910  واسنادہ صحیح)

نوٹ:۔

اس روایت کے آخر میں ابراھیم نخعیؒ تابعی کا مرسل قول ہے جو کہ صحابی کے قول کے مقابلے میں حجت نہیں. 

عبدللہ بن عباس ؓ  فرماتے ہیں:۔

‌‌أَوَّلُ ‌مَنْ ‌أَسْلَمَ ‌عَلِيٌّ

سب سے پہلے علیؓ اسلام لائے

                            (  المصنف عبد الرزاق رقم  9719)       (الأوائل لابن أبي عاصم رقم  71 واسنادہ صحیح)

امام ذهبيؒ فرماتے ہیں:۔

‌وثبت ‌عن ‌ابن ‌عباس، ‌قال: ‌أول ‌من ‌أسلم ‌علي

ابن عباس سے یہ قول " سب سے پہلے اسلام لانے والے علیؓ ہیں" ثابت ہے

(  سير أعلام النبلاء ط الحدیث ج 2 ص  496)

عبدللہ بن عباسؓ سے ایک اور جگہ منقول ہے:

وَكَانَ عَلِيٌّ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا

خدیجہؓ کے بعد لوگوں میں سب سے پہلے علیؓ ایمان لائے 

 ( المستدرك على الصحيحين رقم 4652  قال الذهبی فی التلخیص : صحیح  )     ( فضائل الصحابة الإمام أحمد بن حنبل رقم  1168 واسنادہ حسن)

امام ابن عبد البرؒ  اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:۔

هَذَا إسناد لا مطعن فِيهِ لأحدٍ لصحته وثقة نقلته

اس سند کی صحت اور اس کے ناقلین (راویوں) کی ثقاہت پر کسی نے کوئی طعن (کلام) نہیں کیا ہے۔

(  الاستيعاب ج 2 ص  496)

شواہد:۔

1- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ

ابن عباس فرماتے ہیں اور وہ (علیؓ) خدیجہؓ کے بعد لوگوں میں سے سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں

(  مسند أحمد بن حنبل رقم  3061)

2- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ

حضرت عبد ﷲ ابن عباس رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی ﷲ عنہا کے بعد جس شخص نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں

(  مسند أحمد بن حنبل رقم  3542)

بریدہ ؓ  فرماتے ہیں:۔

أَنَّ‌‌ ‌خَدِيجَةَ ‌أَوَّلُ ‌مَنْ ‌أَسْلَمَ ‌مَعَ ‌رَسُولِ ‌اللَّهِ ‌صَلَّى ‌اللهُ ‌عَلَيْهِ ‌وَسَلَّمَ ‌وَعَلِيِّ ‌بْنِ ‌أَبِي ‌طَالِبٍ

رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے اسلام لانے والےخدیجہؓ اور علی بن ابی طالبؓ تھے

(الأوائل لابن أبي عاصم رقم  107 واسنادہ صحیح)

 سعد بن ابی وقاص ؓ  نے ایک شخص کو مولا علی ؓ کی توہین کرنے پر کہا :۔

«يَا هَذَا، عَلَامَ تَشْتُمُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ أَلَمْ يَكُنْ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ؟

تو علیؓ کو کیوں گالیاں دے رہا؟ کیا وہ سب سے پہلے اسلام لانے والے نہیں تھے؟

: روایت کی سند 

فَحَدَّثَنَا بِشَرْحِ، هَذَا الْحَدِيثِ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادِ السَّرِيُّ، ثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ بِمَكَّةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ---- و قال الحاکم : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ

(المستدرك على الصحيحين رقم  6121 قال ذہبی: على شرط البخاري ومسلم)

سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں:

إِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وُرُودًا عَلَى نَبِيِّهَا أَوَّلُهَا إِسْلَامًا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ

اس امت میں سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں (حوض کوثر پر) حاضر ہونے والے سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے علی بن ابی طالبؓ ہیں-

( مصنف ابن ابی شیبہ رقم  32112)

امام هيثمي اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

رواه الطبراني، ورجاله ثقات

اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد رقم 14599 )

روئے ارض پر فقط تین نمازی:

عفیفؓ فرماتے ہیں: 

جِئْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَى مَكَّةَ، فَنَزَلْتُ عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، وَحَلَّقَتْ فِي السَّمَاءِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْكَعْبَةِ أَقْبَلَ شَابٌّ، فَرَمَى بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَقَامَ مُسْتَقْبِلَهَا، فَلَمْ يَلْبَثْ حَتَّى جَاءَ غُلَامٌ، فَقَامَ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ حَتَّى جَاءَتِ امْرَأَةٌ، فَقَامَتْ خَلْفَهُمَا، فَرَكَعَ الشَّابُّ، فَرَكَعَ الْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ، فَرَفَعَ الشَّابُّ، فَرَفَعَ الْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ، فَخَرَّ الشَّابُّ سَاجِدًا، فَسَجَدَا مَعَهُ فَقُلْتُ: يَا عَبَّاسُ «أَمْرٌ عَظِيمٌ» فَقَالَ لِي: أَمْرٌ عَظِيمٌ؟ فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنْ هَذَا الشَّابُّ؟ فَقُلْتُ: لَا فَقَالَ: " هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، هَذَا ابْنُ أَخِي، وَقَالَ: تَدْرِي مَنْ هَذَا الْغُلَامُ؟» فَقُلْتُ: لَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، هَذَا ابْنُ أَخِي «هَلْ تَدْرِي مَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ الَّتِي خَلْفَهُمَا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: هَذِهِ خَدِيجَةُ ابْنَةُ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةُ ابْنِ أَخِي» هَذَا حَدَّثَنِي أَنَّ رَبَّكَ رَبُّ السَّموَاتِ وَالْأَرْضِ أَمَرَهُ بِهَذَا الدِّينِ الَّذِي هُوَ عَلَيْهِ، وَلَا وَاللهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ كُلِّهَا أَحَدٌ عَلَى هَذَا الدِّينِ غَيْرُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ

عفیفؓ فرماتے ہیں "میں زمانہ جاہلیت میں ایک دفع مکہ آیا تاکہ اپنے اہل و عیال کے لئے کپڑے عطر وغیرہ خرید لوں- پس میں عباس بن عبدلمطلب کے پاس آیا اور وہ ایک تاجر تھے، میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ سورج طلوع ہوگیا اور اس نے آسمان کی جانب دائرہ بنایا- میں کعبہ کی جانب دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک شخص ظاہر ہوا اور اس نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر وہ قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہو گیا- پھر تھوڑی دیر بعد بچہ آیا اور وہ اس کی دائیں جانب کھڑا ہو گیا، پھر تھوڑی دیر بعد خآتون آئی اور وہ ان کے پیچھے کھڑی ہوگئی، پھر نوجوان نے رکوع کیا تو اس خاتون اور بچے نے بھی رکوع کیا، پھر اس نوجوان نے سر اٹھایا تو خاتون اور بچے نے بھی سر اٹھایا، پھر نوجوان نے سجدے میں سر جھکایا تو ان دونوں نے ایسا ہی کیا- اس پر میں نے کہا اے عباسؓ بڑی بات ہے، اس پر عباسؓ نے بھی کہا بڑی بات ہے اور پھر کہا : کیا تم جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ میں نے کہا نہیٰں- انہوں نے بتایا کہ یہ محمد بن عبدللہ بن عبدلمطلب ہے، یہ میرا بھتیجا ہے- پھر کہا : کیا تم جانتے ہو یہ بچہ کون ہے؟ میں نے کہا نہیٰں- انہوں نے بتایا کہ یہ علی بن ابی طالب بن عبدلمطلب ہے، یہ میرا بھتیجا ہے-پھر پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ خاتون کون ہیں؟ میں نے کہا نہیں- پھر کہا : یہ خدیجہ بن خویلد ہے اور یہ میرے بھتیجے کی زوجہ ہے- میرے اس بھتیجے نے مجھے بتایا کہ اس کا رب وہ ہے جو زمین و آسمان کا رب ہے، اس نے اسے اس دین کا حکم دیا ہے جس پر یہ قائم ہے- اللہ کی قسم! روئے زمین پر ان تین کے علاوہ کوئی انسان اس دین پر نہیں

(  السنن الكبرى النسائي رقم  8337)

امام ابن عبدلبرؒ فرماتے ہٰیں:۔

حديث حسن جدا

یہ حدیث حسن جید ہے

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب ج2 ص 131)

امام حاکمؒ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور امام ذھبیؒ نے ان کی موافقت کی ہے

( المستدرك على الصحيحين رقم 4842)

مسند احمد کے محقق شیخ احمد محمد شاکر نے اس حدیث کو صحیح بولا ہے

( مسند أحمد رقم 1787)

امام هيثمي اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

رواه أحمد وأبو يعلى بنحوه، والطبراني بأسانيد، ورجال أحمد ثقات

اس حدیث کو امام احمد، ابو یعلی، طبرانی نے اس سند سے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد رقم 14605)


اھل علم کی تصریحات

امام ابن عبدلبرؒ فرماتے ہٰیں:۔

واتفقوا على أن خديجة أول من آمن بالله ورسوله وصدقه فيما جاء به ثم علي بعدها. وروي في ذلك عن أبي رافع مثل ذلك، حدثنا عبد الوارث، حدثنا قاسم، حدثنا أحمد بن زهير، قال: حدثنا عبد السلام بن صالح، قال: حدثنا عبد العزيز ابن محمد الدراوردي، قال حدثنا عمرو مولى عفرة، قال: سئل محمد بن كعب القرظي عن أول من أسلم: على أو أبو بكر رضي الله عنهما؟ قال: سبحان الله! علي أولهما إسلاما، وإنما شبه على الناس لأن عليا أخفى إسلامه من أبي طالب، وأسلم أبو بكر فأظهر إسلامه، ولا شك أن عليا [عندنا أولهما إسلاما

اور اس پر سب اھل علم کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے سیدہ خدیجہؓ  ایمان لائیں اور جو کچھ نازل ہوا اس کی تصدیق کی، اور ان کے بعد مولا علیؓ ایمان لائے- اور ایسا ہی صحابی رسول ابورافعؓ سے مروی ہے- محمد بن کعب سے سوال کیا گیا کہ سب سے پہلے ابو بکر اسلام لائے یا علیِ؟ انہوں نے کہا سبحان اللہ! علی ان سے پہلے ایمان لائے اور لوگوں کو شبہ صرف اس لئے ہوا کہ علیؓ نے اپنا اسلام ابوطالب سے مخفی رکھا اور جب ابوبکرؓ اسلام لائے تو انہوں نے اپنا اسلام ظاہر کردیا، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ علیؓ ابوبکرؓ سے پہلے اسلام لائے۔

(الاستيعاب في معرفة الأصحاب ج2 ص 43)

حافظ ابن حجر  العسقلانیؒ کے استاد حافظ عراقیؒ فرماتے ہیں:۔

والصحيح أن عليا أول ذكر أسلم وحكى ابن عبد البر الاتفاق عليه كما سيأتي

صحیح یہ ہے کہ علیؓ پہلے مذکر مسلمان ہیں اور امام عبدلبرؒ نے اس پر اتفاق نقل کیا ہے-

مزید فرماتے ہیں:۔

وما ذكرنا أنه الصحيح من أن عليا أول ذكر أسلم هو قول أكثر الصحابة أبي ذر وسلمان الفارسي وخباب بن الأرت وخزيمة بن ثابت وزيد بن أرقم وأبي أيوب الأنصاري والمقداد بن الأسود ويعلى بن مرة وجابر بن عبد الله وأبي سعيد الخدري وأنس بن مالك وعفيف الكندي 

اور جو ہم نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ علیؓ سب سے پہلے مذکر مسلمان ہیں تو یہ اکثر صحابہ کا قول ہے جیسا کہ ابوذرؓ، سلمان فارسیؓ، خباب بن الارتؓ، خزیمہ بن ثابتؓ، زید بن ارقمؓ، ابو ایوب انصاریؓ، مقداد بن الاسودؓ، یعلی بن مرہؓ، جابر بن عبدللہؓ، ابوسعید خدریؓ، انس بن مالکؓ، اور عفیف الکندیؓ-

(التقييد والإيضاح شرح مقدمة ابن الصلاح ص 242)

نوٹ:     حافظ عراقیؒ نے یہاں 12 صحابہ کا ذکر کیا ہے جن کے مطابق مولا علیؑ سب سے پہلے اسلام لائے- لیکن ان میں سے بعض صحابہ کے اقوال سند کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچ سکے- واللہ اعلم

 امام محمد بن إسحاق بن يسارؒ  (المتوفى: 151 هـ) فرماتے ہیں:۔

وكان أول من اتبع رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة بنت خويلد، زوجته، ثم كان أول ذكر آمن به علي، وهو يومئذ ابن عشر سنين، ثم زيد بن حارثة، ثم أبو بكر الصديق رضي الله عنهم

سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرنے والی آپ کی زوجہ خدیجہؓ بنت خویلد تھیں، پھر ،مذکر میں سب سے پہلے ایمان لانے والے علیؓ ہیں، اس وقت ان کی عمر دس سال تھی، پھر زیدؓ بن حارثہ پھر ابو بکر صدیقؓ رضی اللہ عنہم

(سيرة ابن إسحاق  ج 1 ص 183 ط علمیہ )

تابعی حسن بصریؒ فرماتے ہیں  :۔

 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَغَيْرِهِ، قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ

خدیجہؓ کے بعد علی بن ابی طالبؓ سب سے پہلے اسلام لائے

(الجامع معمر بن راشد رقم 20391 )

امام ابن حبان (المتوفى: 354هـ) لکھتے ہیں:۔

 فكان أول من آمن برسول الله صلى الله عليه وسلم زوجته خديجة بنت خويلد ثم آمن علي بن أبي طالب فصدقه بما جاء به وهو بن عشر سنين ثم أسلم أبو بكر الصديق فكان علي بن أبي طالب يخفي إسلامه من أبي طالب وأبو بكر لما أسلم أظهر إسلامه فلذلك اشتبه على الناس أول من أسلم منهما

سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر ان کی زوجہ خدیجہؓ ایمان لائیں، پھر علیؓ بن ابی طالب ایمان لائے اور جو کچھ آیا اس کی تصدیق کی، اور وہ دس سال کے تھے، پھر ابوبکرؓ اسلام لائے- علیؓ بن ابی طالب نے اپنا اسلام ابو طالب سے مخفی رکھا اور ابوبکرؓ نے اپنا اسلام ظاہر کردیا، یہی وجہ ہے کے لوگوں میں ان دونوں میں سب سے پہلے کون اسلام لایا کو لے کر شبہات پائے جاتے-

(الثقات بن حبان ج 1 ص 52)

امام شمس الدین ذھبیؒ   (المتوفى: 748ھ)  سیدنا  علیؓ کا تذکرہ  کرتے ہوئے  فرماتے ہیں:۔

أحد السابقين الأولين، ‌لم ‌يسبقه ‌الى ‌الإسلام إلا خديجة -رضي الله عنها

آپ سابقون اولون میں سے ایک ہیں۔آپ سے پہلے کوئی اسلام نہیں لایا سوائے خدیجہؓ کے

(معرفة القراء الكبار على الطبقات والأعصار ص11)


حافظ احمد بن حجر عسقلانی مولا علی ؓ کا تذکرتے  ہوئے   فرماتے ہیں:۔

«أول الناس إسلاما في قول كثير من أهل العلم»

کثیر اہل علم کے قول سے آپ لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں۔

( 4/464   الإصابة في تمييز الصحابة) 

لہذا ان تمام تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مذکر میں سب سے پہلے مولا علیؓ نے اسلام قبول کیا اور مجموعی طور پر سب سے پہلے سیدہ خدیجہؓ نے اسلام قبول کیا

 اللہ حق بات قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے  (آمین)